قائداعظمؒ نے بیرسٹر بننے کا فیصلہ کیوں کیا؟

27

لندن کاؤنٹی کونسل نے بلڈنگ پر ایک یادگاری تختی نصب کرا دی تھی جس پر یہ عبارت درج ہے،”’قائداعظم محمد علی جناح (1948ئ-1876ئ) بانیٔ پاکستان نے یہاں 1895ء میں قیام کیا۔

لاہور: گراہمز شپنگ اینڈ ٹریڈنگ کمپنی میں جس کا صدر دفتر تھریڈینڈل سٹریٹ (لندن) کے پاس تھا اس نوجوان (قائداعظم محمد علی جناحؒ) نے اپرنٹس کا چارج سنبھال لیا، جو کمپنی کے کراچی میں مقیم ایک تاجر دوست کا بیٹا تھا۔ محمد علی کو ایک کمرے میں چھوٹی سی میز اور کرسی دے دی گئی جہاں بیٹھ کر وہ دفتری ساتھیوں کی مدد سے کاروبار کا نظم و نسق چلانا سیکھا کرتے تھے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ نقد رقم لائے تھے، میرے والد نے گراہمز کمپنی سے کہا کہ وہ کراچی سے اپنے لندن دفتر میں مزید رقم منتقل کر دیں۔ ان کے بیٹے کے پاس اپنی اپرنٹس شپ مکمل کرنے کے دوران کافی رقم موجود رہنی چاہیے۔ روپے پیسے کے معاملے میں احتیاط انہیں خاندانی ورثے کے طور پر ملی تھی۔ چنانچہ محمد علی نے لندن میں اپنی رقم رائل بنک آف سکاٹ لینڈ 123 بشپ سٹریٹ میں جمع کروا دی۔ جلد ہی انہوں نے اس بات کو محسوس کر لیا کہ انہیں لندن میں کم از کم دو برس ضرور رکنا پڑے گا۔ اس لیے ہوٹل میں ٹھہرنا مالی لحاظ سے سستا نہیں رہے گا اور یہ کہ اگر وہ کوئی ایسا خاندانی گھر تلاش کر لیں جو انہیں اپنے ساتھ ادائیگی کرنے والے مہمان کی حیثیت سے رکھ لے تو ان پر بہت کم اخراجات ہوں گے۔ لندن کے روزناموں کے مختصر اشتہارات کے کالموں کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے چند ایک خاندانوں کے پتے نوٹ کر لیے جو پئینگ گیسٹ رکھنے پر آمادہ تھے۔ اس قسم کے کئی گھرانوں سے ملاقات کرنے کے بعد انہوں نے مسز ایف ایپیج ڈریک کے ہاں ٹھہرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ان کا مکان 35 رسل روڈ کینسنگٹن میں موجود وسیع و عریض اولمپیا بلڈرز کے سامنے ہائی سٹریٹ کینسنگٹن میں واقع تھا۔ اولمپیا بلڈنگ 1892ء سے کہیں بعد میں تعمیر ہوئی تھی۔ 1890ء کے عشرے میں یہ لندن کے رہائشی علاقوں کی ان چند جگہوں میں شامل ہوگی جہاں رہائش کے متلاشی لوگ اکثر آتے رہتے ہوں گے۔

لندن کاؤنٹی کونسل نے اس بلڈنگ پر ایک یادگاری تختی نصب کرا دی تھی جس پر یہ عبارت درج ہے: “قائداعظم محمد علی جناح (1948ئ-1876ئ) بانیٔ پاکستان نے یہاں 1895ء میں قیام کیا۔” ان کا متجسس ذہن اس وقت انگلینڈ میں اپنے قیام سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہتا تھا جبکہ برطانوی آزاد خیالی اپنی قوم کے ذہنوں پر گہرا اثر مرتب کر رہی تھی، انہوں نے اٹھتے ہیں صبح کے اخبار بڑی احتیاط سے پڑھنے اور اپنا ناشتہ ختم ہونے سے پہلے انہیں پڑھ لینے کی مخصوص انگریزی عادت اپنا لی۔ وہ بڑے لیڈر جو انگلینڈ کے افق پر چھائے رہے، محمد علی ان کی کامیابیاں اور پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر ہونے والی ان کی تقریروں کو بڑے شوق سے پڑھتے جو لاکھوں دوسرے افراد بھی بڑے شوق سے پڑھتے تھے۔ وہ جہاں کہیں بھی جاتے، ان ہی سیاسی لیڈروں کے تازہ ترین بیانات اور تقاریر کے بارے میں گفتگو ہوا کرتی تھی جنہیں عام لوگ اس عہد کے تقدیر سازوں کی حیثیت سے دیکھتے تھے۔ اور یہاں حال یہ تھا کہ محمد علی تھریڈینڈرل کے قریب واقع گراہمز کمپنی کے دفتر میں معمول کے خشک اور اکتا دینے والے دفتر کے کام میں صبح سے شام تک الجھے رہتے تھے۔

تمام تر محنت، مشقت اور صبر کا شاید واحد انعام یہ مل سکتا تھا کہ وہ بالآخر اپنے والد کے کاروبار میں شامل ہو جاتے اور اسے اس معیار سے زیادہ منافع بخش اور وسیع تر بنانے لگ جاتے جس پر انہوں نے اسے سنبھالا تھا۔ ان کے نزدیک زندگی کا یہ انتہائی بور اور محدود مستقبل تھا۔ ان کی زندگی میں روپے پیسے کی اہمیت ضرور تھی مگر موجودہ صورت حال میں وہ قوم کے رہنما نہیں بن سکتے تھے اور نہ ہی وہ اپنے ہم وطنوں کی زندگیاں بنانے والے ہیرو بن سکتے تھے۔ اس خیال نے ان کے ذہن میں بہت سے شکوک و شبہات پیدا کر دیئے تھے کہ آیا انہیں ایسے کیریئر کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے جو ان کے ساتھ ہی شروع ہوا اور ان کے ساتھ ہی ختم ہو جائے۔ انہوں نے انگریزوں کی عوامی زندگی کے موجودہ اور ماضی کے لیڈروں کی زندگی کا مطالعہ کرنا اور ان کے بارے میں لوگوں سے بحث کرنا شروع کر دیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ان رہنماؤں میں سے اکثر بیرسٹر تھے اور یہ کہ قانون کے مناسب اور خاطر خواہ علم نے انہیں عوامی زندگی میں اہم مقام حاصل کرنے میں مدد دی تھی۔ اب وہ دوراہے پر کھڑے تھے۔ کیا انہیں بحیثیت اپرنٹس گراہمز میں کام کرتے رہنا چاہیے یا وہ انٹرنس کا امتحان پاس کر کے لندن میں کہیں داخلہ لے لیں اور بیرسٹر بن جائیں۔ انہوں نے بتایا: “مجھے یہ فیصلہ کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگی کہ مجھے بیرسٹر بننے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ میرے خوش قسمتی کہ جس سال “لٹل گو” کا امتحان پاس کر کے بار ایٹ لا میں داخلہ لینے کا آخری موقع تھا، نئے سال سے داخلے کے قواعد و ضوابط میں تبدیلیاں کی جارہی تھیں، جس کے باعث بار ایٹ لا میں داخلہ لینے کی خاطر مجھے دو برس لگ جاتے۔ چنانچہ میں نے لٹل گو کا امتحان پاس کرنے کے لیے گراہمز اپرنٹس شپ کا سلسلہ ترک کرنے کا فیصلہ کیا۔

(کتاب “میرا بھائی” سے اقتباس)

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.